اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے گلگت بلتستان کے انتخابات کے حوالے عوام کے نام اہم اور تفصیلی پیغام جاری کر دیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ
وطن عزیز پاکستان کی تشکیل کے بعد ڈوگرہ راج سے اپنے زور بازو سے آزادی حاصل کرکے خود سے پاکستان سے الحاق کرنے والے اس وقت کے ملک کے شمالی علاقہ جات کے غیور عوام کا جذبہ حب الوطنی کسی سے مخفی و پوشید ہ نہیں ہے، تاہم یہ امر افسوسناک ضرور ہے کہ سرزمین بے آئین کے باسی اس دور میں بھی اپنے جائز آئینی و قانونی حقوق کی فراہمی کے متلاشی و منتظر ہیں۔ ملی پلیٹ فارم کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ روز اول سے ہی اس نے ان پسماندہ اور محروم علاقوں کے آئینی و قانونی حقوق کی بات کی اور جماعت کے ہر اہم اجتماع اور اجلاس کے ایجنڈے پر سرفہرست جو مسئلہ رہا، وہ ان علاقوں کی آئینی و قانونی حیثیت کا تعین اور عوام کی محرومی و پسماندگی کا خاتمہ ہے۔ چنانچہ اس لازوال اور مسلسل جدوجہد نے حکومتوں کو ہماری آواز پر کان دھرنے پر مجبور کیا اور ان علاقوں کی تعمیر و ترقی اور حقوق کے حوالے سے پیش رفت ہوئی، تاہم اب بھی ہم سمجھتے ہیں کہ ان کی خود مختاری کی خاطر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اس وقت کا "شمالی علاقہ جات" اور آج کا "گلگت بلتستان" بے لوث، نڈر، دیندار اور مثبت سوچ و فکر کے حامل بزرگ علمائے کرام، عمائدین، کارکنان اور عوام کی مثالی اور انتھک جدوجہد کی بدولت ترقی و خوشحالی کی منزلیں طے کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملی پلیٹ فارم کے ذریعے نہ صرف ان علاقوں میں تعمیر و ترقی کے منصوبے شروع کئے گئے بلکہ تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لئے سکولز بھی قائم ہوئے، جو کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ یہاں پر حضرت علامہ شیخ غلام محمد مرحوم اور علامہ شہید سید ضیاءالدین رضوی کی ملی و قومی خدمات کا تذکرہ بھی نہایت ضروری، لازم و ناگزیر ہے۔ ان احباب کی شبانہ روز کوششوں اور جدوجہد کی بدولت گلگت بلتستان کے عوام میں نہ صرف ملی شعور بیدار ہوا، محرومیت کا خاتمہ ہوا، بلکہ باہمی وحدت و اتحاد اور اخوت و رواداری کی فضاء کو بھی فروغ حاصل ہوا اور انسانی عزت و وقار کے لئے مثبت پیش رفت سامنے آئی۔ ملی پلیٹ فارم کی جدوجہد کی بدولت جب شمالی علاقہ جات قانون ساز کونسل کے اولین انتخابات ہوئے تو ملی جماعت تحریک جعفریہ پاکستان واحد اکثریتی پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی، چنانچہ اس کے بدولت علاقہ کی تعمیر و ترقی کے ایک روشن باب کا آغاز ہوا اور عوام میں سیاسی شعور بھی بیدار ہوا، جس کے ذریعے حقوق کی جدوجہد کی منزل قریب تر ہوئی۔
علامہ ساجد نقی نے اپنے پیغام میں مزید کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایک بار گلگت بلتستان میں انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہوچکا ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیاں اس حوالے سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرچکی ہیں۔ عوام کی اپنی جماعت "اسلامی تحریک پاکستان" بھی ان انتخابات میں بھرپور انداز میں وارد ہوچکی ہے۔ چونکہ ملی پلیٹ فارم کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے اس علاقے کی تعمیر و ترقی، آئینی و قانونی حقوق کے حصول، ناخواندگی کے خاتمے اور غربت و افلاس کی دوری کی خاطر سب سے پہلے ہر فورم پر آواز بلند کی اور علاقہ میں سیاسی سرگرمیوں کے آغاز پر ہی "ترقی کا بس ایک منصوبہ…پانچواں صوبہ پانچواں صوبہ" کا نعرہ لگایا۔ جس کے نتیجہ میں حکومتوں کی جانب سے اصلاحات کا عمل شروع ہوا۔ ان انتخابات میں بھی "اسلامی تحریک پاکستان" حصہ لے رہی ہے اور عوام کی اپنی جماعت ہونے کے ناطے گلگت بلتستان کے عوام سے بجا طور پر یہ خواہش کرتی ہے کہ اس کی کامیابی جو درحقیقت وہاں کے عوام کی کامیابی ہے، کے لئے عوام "اسلامی تحریک پاکستان" کا بھرپور ساتھ دیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲